Saturday, June 22, 2024
Homesliderآرٹس کالج میں احتجاج پر پابندی، طلبہ میں بے چینی

آرٹس کالج میں احتجاج پر پابندی، طلبہ میں بے چینی

- Advertisement -
- Advertisement -

حیدرآباد۔ عثمانیہ یونیورسٹی جس کا شمار دنیا کی معروف اور قدیم جامعات میں ہوتا ہے جس نے دنیا کو علوم کے کئی نگینے دیئے ،تعلیم کے ساتھ اس جامعہ نے حیدرآباد کو زندگی کی کئی ایسے راز بھی بتائے جس میں ترقی پنہاں تھی  نیز یہ وہ جامعہ ہے جس نے تلنگانہ تحریک کے احتجاج  کےلئے  مرکز  کا کردار ادا کیا ہے  آج اس یونیورسٹی میں نئی  پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔

نئی ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد عثمانیہ یونیورسٹی اور کاکتیہ یونیورسٹی طلبہ تنظیموں نے مخالف حکومت موقف اختیار کیا جس کے نتیجہ میں حکومت نے سیاسی سرگرمیوں پر روک لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی  کا آرٹس کالج جو ہمیشہ احتجاج، جلسوں اور دیگر تقاریب کا مرکز رہا ہے یہاں اب کسی  احتجاج اور تقاریب کی اجازت نہیں  ہو گی۔ یونیورسٹی حکام نے غیرمتوقع طور پر یہ سخت گیر فیصلہ کیا اور اس فیصلے  کے بعد طلبہ میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ یونیورسٹی حکام نے کہا ہے کہ یونیورسٹی کے وقار کو بچانے کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا کیوں کہ گزشتہ چند برسوں میں یونیورسٹی کے احاطہ میں سیاسی سرگرمیوں سے تعلیم متاثر ہوئی ہے۔

 حکام نے مزید کہا ہے کہ آرٹس کالج کی شناخت تعلیم سے زیادہ احتجاج کے لئے ہورہی ہے ۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈی رویندر نے کہاکہ ایکزیکٹیو کونسل نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا تاکہ طلبہ کو احتجاج سے زیادہ تعلیم میں مشغول کیا جاسکے۔ اُنھوں نے کہاکہ احکامات پرعمل آوری سے قبل طلبہ تنظیموں کو اُن کی ذمہ داریوں کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ طلبہ کے تعاون سے احکامات پرعمل آوری کی جائے گی۔

پروفیسر رویندر نے کہاکہ یونیورسٹی جانتی ہے کہ طلبہ اور اساتذہ کے حقوق کیا ہیں تاہم یونیورسٹی کو تعلیم کے ماحول سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ طلبہ کے احتجاج کے لئے یونیورسٹی نے آرٹس کالج کے بجائے دیگر دو مقامات کی نشاندہی کی ہے تاہم طلبہ تنظیمیں اِس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔ طلبہ تنظیموں کا موقف ہے کہ حکومت نے طلبہ کی آواز کو دبانے کے لئے یہ فیصلہ کیا ہے۔ تلنگانہ تحریک کے دوران جب ٹی آر ایس اپوزیشن میں تھی اُس وقت آرٹس کالج احتجاج کا مرکز ہوا کرتا تھا  اور اب جبکہ ٹی آر ایس برسر اقتدار ہے وہ طلبہ کے مسائل کی سماعت کے لئے تیار نہیں ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈی رویندر نے طلبہ اور اُن کی تنظیموں سے درخواست کی ہے کہ وہ خود کو غیر تدریسی سرگرمیوں سے دور رکھیں تاکہ یونیورسٹی کی ساکھ متاثر نہ ہو۔