Thursday, May 30, 2024
Homesliderآٹھ کروڑ روپے مالیت کی جعلی ادویات ضبط، سات گرفتار

آٹھ کروڑ روپے مالیت کی جعلی ادویات ضبط، سات گرفتار

- Advertisement -
- Advertisement -

نئی دہلی۔ آٹھ کروڑ روپے مالیت کی بین الاقوامی برانڈ کی جعلی دوائیں ضبط کی گئیں اور اس سلسلے میں قومی راجدھانی دہلی سے سات لوگوں کو گرفتار کیا گیا، پولیس نے منگل کو بتایا۔ گرفتاریوں کے ساتھ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے ایک بین الاقوامی سنڈیکیٹ کا پردہ فاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو زندگی بچانے والی جعلی ادویات تیار کر رہا تھا۔ ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ ہم نے بھاری مقدار میں کھلی ادویات، پیکٹ، پیکیجنگ میٹریل اور مشینری کا سامان بھی ضبط کیا ہے۔ ملزمان کی شناخت پبیترا نارائن پردھان، شبھم مننا، پنکج سنگھ بوہرا، انکت شرما عرف انکو عرف بھجی، رام کمار عرف ہربیر، ایکانش ورما اور پربھت کمار کے طور پر کی گئی ہے۔

کرائم برانچ کے ڈی سی پی رویندر یادو نے کہا آئی ایس سی کرائم برانچ، دہلی میں ایک بین الاقوامی گینگ کے ملوث ہونے کے بارے میں کچھ اہم معلومات ملی ہیں جو کہ کینسر کی زندگی بچانے والی جعلی ادویات کی تیاری اور سربراہی کرتی ہیں۔ یہ افراد بین ریاستی لین دین میں ملوث تھے۔ ملزمان طویل عرصے سے زندگی بچانے والی جعلی ادویات کی فراہمی میں مصروف تھے۔ ملزمان کینسر کے مریضوں کی بیماری اور مصائب سے منافع کما رہے تھے، انہیں جعلی ادویات فراہم اور فروخت کر رہے تھے جن میں کوئی فعال اجزا نہیں تھا اور معصوم افراد کی قیمتی جانوں سے کھیل رہے تھے۔ پہلے ہی کینسر جیسی جان لیوا بیماری میں مبتلا ہیں۔ پولیس کو معلوم ہوا کہ ملزم پردھان اور سبھم غازی آباد سے اپنا گودام چلا رہے تھے جہاں سے ملک بھر میں جعلی دوائیں پہنچائی جاتی تھیں۔ اس معاملے میں پہلی گرفتاری پرگتی میدان کے باہر کے علاقے سے کی گئی تھی جہاں بوہرا دو پہیہ گاڑی پر دوائی پہنچانے آیا تھا۔

ان کے کہنے پر پردھان اور دیگر ملزمان کو نوئیڈا سے گرفتار کیا گیا تھا۔ تفتیش کے دوران ہمیں معلوم ہوا کہ پردھان نے 2012 میں چین سے اپنا ایم بی بی ایس مکمل کیا تھا۔ ایم بی بی ایس کورس کے دوران اس کے بیچ کے ساتھی، راسل (بنگلہ دیش کا رہنے والا) نے بتایا کہ وہ اے پی آئی (اصل دواسازی کے اجزائ) فراہم کر سکتا ہے جو اس میں استعمال ہونے والی جعلی ادویات بنانے کے لیے درکار ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مذکورہ ادویات کی ہندوستان اور چین کی مارکیٹوں میں بہت زیادہ مانگ ہے اور ان کی قیمت بہت زیادہ ہے، ان جعلی ادویات کی فروخت سے بھاری رقم کمائی جا سکتی ہے۔ انیل جو ان کا دوست ہے اور جس نے چین سے ایم بی بی ایس بھی مکمل کیا ہے، ہندوستان اور چین میں اپنے رابطے کے ذریعے ایسی جعلی دوائیں سربراہی کرنے پر راضی ہوا۔ اس کے بعد پردھان نے اپنے کزن شبھم منا اور دیگر ساتھیوں کو شامل کیا اور علاج کے لیے جعلی ادویات تیارکرنا شروع کر دیں۔