Saturday, July 13, 2024
Homesliderادھیر رنجن کا بیان ، بی جے پی کا ہنگامہ ،لوک سبھا...

ادھیر رنجن کا بیان ، بی جے پی کا ہنگامہ ،لوک سبھا کی کارروائی ملتوی

- Advertisement -
- Advertisement -

نئی دہلی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ارکان پارلیمنٹ نے جمعرات کو لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری کے صدر دروپدی مرمو کے بارے میں دیئے گئے تبصرے پر ہنگامہ کھڑا کر دیا، جس کے نتیجے میں ایوان کی کارروائی دن کے لیے ملتوی ہوگئی ۔مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی اور بی جے پی کی کئی دیگر خواتین ممبران پارلیمنٹ نے کارروائی شروع ہوتے ہی اس معاملے کو بھرپور طریقے سے اٹھایا اور کانگریس اور اس کی لیڈر سونیا گاندھی پر شدیدتنقید  کی۔ ایوان میں ہنگامہ آرائی کی وجہ سے کارروائی مکمل طور پر متاثر ہوئی۔
کانگریس کو قبائلیوں، خواتین اور غریبوں کا مخالف قرار دیتے ہوئے بی جے پی نے کانگریس صدر سونیا گاندھی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔دو التوا کے بعد جب ایوان کی کارروائی چار بجے شروع ہوئی تو بی جے پی ارکان نے ہنگامہ کیا۔ اس دوران کانگریس لیڈر چودھری کچھ کہنے کی کوشش کرتے نظر آئے۔ ایوان میں شور و غل کو دیکھتے ہوئے صدارتی چیئرمین کریت بھائی سولنکی نے کارروائی جمعہ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی۔قبل ازیں حکمراں بی جے پی ارکان کے ہنگامہ آرائی کی وجہ سے وقفہ سوالات اور وقفہ صفر کا وقت نہیں چلایا جاسکا۔
جب ایوان زیریں کی کارروائی صبح 11 بجے شروع ہوئی تو خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزیر اور بی جے پی کی سینئر لیڈر اسمرتی ایرانی نے یہ مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ ایوان میں کانگریس کے رہنما ادھیر رنجن چودھری نے ملک کی پہلی خاتون قبائلی صدر دروپدی مرمو کے متعلق نازیبا بیان دیا ۔ انہوں  نے  قومی بیوی کہہ کر اس کی توہین کی۔انہوں نے کہا کہ یہ اس ملک کا فخر ہے کہ آزادی کے 75 سالوں میں پہلی بار وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک غریب قبائلی خاتون کو صدارتی امیدوار نامزد کیا۔ایرانی نے کہا کہ مرمو صدارتی امیدوار بنتے ہی کانگریس کی نفرت کا مرکز بن گئیں۔ کانگریس کے مرد لیڈروں نے دروپدی مرمو کو کٹھ پتلی کہا، دروپدی کو برائی کی علامت کہا اور کل ایوان میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے صدر کو قومی بیوی کہہ کر ان کی توہین کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک صحافی کی طرف سے روکنے کے بعد بھی چودھری نے اپنے الفاظ واپس نہیں لیے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس ایک خواتین مخالف، غریب مخالف اور قبائلی مخالف پارٹی ہے، جو اب صدر کی توہین کرتی ہے، جو اب ملکی افواج کے سپریم کمانڈر اور اعلیٰ ترین آئینی عہدے پر فائز ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس لیڈر کی یہ حرکت، قبائلی وراثت کی یہ توہین پارٹی صدر سونیا گاندھی کی منظوری تھی۔ایرانی نے کہا کہ صدر کی اس طرح تذلیل کرنا ،بے قیمت اور بے ثقافت سیاست کی علامت ہے۔مرکزی وزیر نے کہا کہ کانگریس صدر کو اس کے لیے ملک، غریبوں، خواتین اور قبائلیوں سے معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے کہامعافی مانگو، شرم کرو۔اس دوران سونیا گاندھی اور چودھری ایوان میں موجود تھے۔