Monday, May 27, 2024
Homesliderبہار کی دونوں سنٹرل یونی ورسٹیوں میں اردو کا شعبہ کیوں نہیں

بہار کی دونوں سنٹرل یونی ورسٹیوں میں اردو کا شعبہ کیوں نہیں

- Advertisement -
- Advertisement -

نئی دہلی ۔ بہار کی دو سنٹرل یونیورسٹی میں شعبہ اردو نہ ہونے افسوس کااظہار کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسسٹنٹ پروفیسر اور غلام محمد یحییٰ فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر خالد مبشر نے دونوں یونیورسٹی میں شعبہ اردوکا نہ ہونا اردوکے ساتھ ناانصافی ہے ۔انہوں نے جاری ایک بیان میں کہا کہ بہار کی دونوں سنٹرل یونی ورسٹیوں میں اردوکا شعبہ توکیا اردو سرے سے ہی ندارد ہے ۔ بہار کی تاریخ میں پہلی بار 2009 میں سنٹرل یونی ورسٹی آف ساؤتھ بہار(گیا) کا قیام عمل میں آیا۔ ابھی یہاں 52 کورسیز کی تعلیم جاری ہے لیکن آج تک نہ اردوکا شعبہ قائم ہوا، نہ ایم اے ، پی ایچ ڈی کے کورسیز شروع کیے گئے ، نہ اساتذہ کا تقرر ہوا۔ 2013 میں اردو کے ایک اسسٹنٹ پروفیسرکا تقررکیا گیا تھا۔ اس وقت بی اے بی ایڈ انٹیگرل کورس میں اردو بطور مضمون شامل تھی لیکن بعد میں اردو ختم کردی گئی، جب کہ ہندی کا شعبہ باضابطہ قائم ہوچکا ہے ۔ وہاں ایم اے ، پی ایچ ڈی کے کورسیز چل رہے ہیں، بی اے بی ایڈ انٹیگرل کورس میں ہندی بطور مضمون شامل ہے اور سات اساتذہ کا تقرر بھی ہوچکا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ ابھی صورتِ حال یہ ہے کہ یونی ورسٹی داخلے کے اشتہار میں اردوکا کوئی ذکر تک نہیں کیا جاتا۔ یہی معاملہ بہارکی دوسری سنٹرل یونی ورسٹی مہاتما گاندھی سنٹرل یونی ورسٹی (موتیہاری) کا بھی ہے ، جس کا قیام 2016 میں عمل میں آیا تھا۔ وہاں بھی اردوکا کوئی نام و نشان نہیں ہے ۔ جب کہ ہندی کا شعبہ خوب پھل پھول رہا ہے ۔

ڈاکٹر خالد مبشر نے سوال اٹھایا کہ آخر اردوکے ساتھ یہ سوتیلا سلوک کیوں؟ انھوں نے محبانِ اردو سے پرزور اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں مرکزی حکومت کو توجہ دلاتے ہوئے وزیر اعظم مودی اور وزیر برائے فروغِ انسانی وسائل کو یاداشت ارسال کریں، اخبارات میں بیانات جاری کریں، کالم لکھیں اور سوشل میڈیا میں بھی تحریک چلائیں۔