Monday, May 27, 2024
Homesliderبہار کے ضمنی انتخابات کا نتیجہ آر جے ڈی اور بی جے...

بہار کے ضمنی انتخابات کا نتیجہ آر جے ڈی اور بی جے پی دونوں کے لیے خطرے کی گھنٹی

- Advertisement -
- Advertisement -

پٹنہ۔ موکاما اور گوپال گنج ضمنی انتخابات کے نتائج نے بہار میں آر جے ڈی اور بی جے پی دونوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کامیابی  کا فرق بڑے پیمانے پر کم  ہوگیا  ہے  اور اب کسی بھی بات کی ضمانت نہیں لی جاسکتی  ہے  تاہم بی جے پی اور آر جے ڈی دونوں دعویٰ کررہے ہیں کہ بالترتیب موکاما اور گوپال گنج میں شکست کا فرق 2020 کے اسمبلی انتخابات کے مقابلے میں کم ہے ۔مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے کہا موکاما میں (آرجے ڈی) نیلم سنگھ کی جیت بی جے پی امیدوار سونم دیوی کے خلاف صرف 16,000 ووٹوں سے زیادہ تھی۔ پچھلے اسمبلی انتخابات میں نیلم کے شوہر اور باہوبلی لیڈراننت سنگھ نے بڑے فرق سے الیکشن جیتا تھا وہ  36,000 سے زیادہ ووٹ لئے تھے ۔ یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بی جے پی نے موکاما کے میدان میں سیاسی بنیاد حاصل کرلی ہے۔ یہ آرجے ڈی کی نہیں بلکہ اننت سنگھ کی جیت ہے۔

دوسری طرف نائب وزیر اعلیٰ اور آر جے ڈی لیڈر تیجاشوی یادو نے کہاگوپال گنج میں شکست کا فرق صرف 1,794 ووٹوں کا تھا۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی امیدوار اور آنجہانی سبھاش سنگھ نے آر جے ڈی کے امیدوار کو 40,000 سے زیادہ کے فرق سے شکست دی تھی۔ آرجے ڈی گوپال گنج میں بڑے پیمانے پر ابھری ہے اور اگر دوسرے (اے آئی ایم آئی ایم اور سادھو یادو) ووٹ کاٹنے والے کا کردار ادا نہ کرتے تو آر جے ڈی بھی وہ سیٹ جیت لیتی۔آر جے ڈی کے ایم پی احمد اشفاق کریم نے گوپال گنج میں شکست کے لیے اسد الدین اویسی کی قیادت والی اے آئی ایم آئی ایم کو ذمہ دارٹھہرایا۔

اویسی یہاں بہار اور دیگر ریاستوں میں مہاگٹھ بندھن کو شکست دینے آئے تھے۔ ان کی پارٹی مجلس ملک میں ایک قومی ووٹ کٹوا (ووٹ کاٹنے والی) پارٹی ہے۔ اقلیتوں کے ووٹوں کو تقسیم کرنے کے لیے یہ بی جے پی کی بی ٹیم ہے۔ حیدرآباد سے بہار آکر مہاگٹھ بندھن کو شکست دینا اویسی کا کام تھا، یہ اقلیتی لوگوں پر منحصر ہے کہ وہ اس حقیقت کوسمجھیں اور بہار اور دیگر ریاستوں میں اے آئی ایم آئی ایم جیسی پارٹیوں کو ووٹ نہ دیں۔

گوپال گنج میں نتائج کے بعد 2024 کے لوک سبھا اور 2025 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے لیے ایم وائی (مسلم یادو) مساوات میں دخل دینے کی امید کی کرن ہے۔گوپال گنج میں سادھو یادو کی بیوی اندرا یادو نے بی ایس پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور 8,853 ووٹ حاصل کیے جبکہ اے آئی ایم آئی ایم کے عبدالسلام کو 12,212 ووٹ ملے جس سے ووٹوں کی تقسیم ہوئی ہے ۔بی جے پی کی جیت آرجے ڈی اور بہار میں سات جماعتوں پر مشتمل عظیم اتحاد کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔ بی جے پی کی کسم دیوی 70,053 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں، جب کہ آر جے ڈی امیدوار موہن پرساد گپتا نے 68259 ووٹ حاصل کیے ہیں۔

دونوں امیدواروں کے درمیان آخری راؤنڈ تک مقابلہ ہوا اور آخر کار بی جے پی امیدوار ہی اس جنگ میں کامیاب ہوئے۔ بی جے پی کی جیت میں بی ایس پی امیدوار اندرا یادو جو سادھو یادو اور اے آئی ایم آئی ایم کے امیدوار عبدالسلام کے کردارکو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ یہ دونوں اس قریبی مقابلے میں آر جے ڈی امیدوار کے لیے ووٹ کاٹنے والے بن گئے ہیں۔ آر جے ڈی کے پاس مسلم اور یادو (ایم وائی) کا ووٹ بینک ہے اور ان دونوں امیدواروں نے مل کر 21,000 سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔