Thursday, May 30, 2024
Homesliderجامعہ مسجد خالی کرنے کا مطالبہ ،  بجرنگ دل کی  کرناٹک ہائی...

جامعہ مسجد خالی کرنے کا مطالبہ ،  بجرنگ دل کی  کرناٹک ہائی کورٹ میں عرضی داخل

- Advertisement -
- Advertisement -

بنگلورو ۔ کرناٹک میں جامعہ مسجد کا تنازعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب بجرنگ دل نے ہائی کورٹ میں ایک درخواست مفاد عامہ جمع کرکے اسے خالی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پی آئی ایل نے دعویٰ کیا کہ اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ مسجد کبھی ہندو مندر تھی۔منڈیا ضلع کے تاریخی سری رنگا پٹنہ قصبے کی جامع مسجد میں ہندو دیوتاؤں اور مندر کے ڈھانچے کے آثار موجود ہیں، اس لیے مسجد کو فوری طور پر خالی کردینا چاہیے اور ساتھ ہی ہندو عقیدت مندوں کو کلیانی (روایتی آبی ذخیرے) مسجد کے احاطے میں نہانے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ درخواست میں کہا گیا۔

بجرنگ دل کے کارکنوں نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ گیان واپی مسجد کی طرز پر مسجد کا دوبارہ سروے کیا جائے۔ مفاد عامہ کی درخواست  بدھ کو بجرنگ دل کے ریاستی صدر منجوناتھ نے داخل کی ہے ۔ منجوناتھ سمیت ہنومان کے 108 بھکتوں نے عرضی دی ہے۔بجرنگ دل کے ذرائع بتاتے ہیں کہ ہندو روایت میں نمبر 108 کو مبارک سمجھا جاتا ہے اور اسی وجہ سے 108 عقیدت مند پارٹی بن گئے ہیں۔

بجرنگ دل کے کارکنوں نے میسور گزٹیئر، مسجد میں ہندوفن تعمیر، ہندو مورتیوں کی نوشت، مقدس آبی ذخائر اور برطانوی افسران کے حوالہ جات کا ثبوت بھی عدالت میں دیا ہے۔قبل ازیں ہندوتواگروپوں نے حکام سے مسجد میں عبادت کرنے کی منظوری مانگی تھی۔ یہ معاملہ ریاست میں ایک گرما گرم موضوع بن گیا تھا۔

مسجد کے حکام نے پہلے ہی متعلقہ حکام سے جامع مسجد کو ہندو کارکنوں سے بچانے کے لیے متعدد اپیلیں کی ہیں۔جامع مسجد جسے مسجد الاعلی بھی کہا جاتا ہے، سری رنگا پٹنہ قلعہ کے اندر واقع ہے۔ یہ ٹیپو سلطان  کے دور حکومت میں 1786-87 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ مسجد میں تین نوشتہ جات ہیں جن میں حضرت محمدﷺ کے نو ناموں کا ذکر ہے۔نریندر مودی وچار منچ نے حکام کو مسجد کے سروے کے لیے عرضیاں پیش کیں اور کہا کہ وہ ثبوت کے ساتھ پختہ یقین رکھتے ہیں کہ جامعہ مسجد ہنومان مندر کوگرانے کے بعد بنائی گئی تھی۔