Saturday, June 22, 2024
Homeبین الاقوامیجنوبی کوریا نے 5 جی نیٹ ورک کا آغاز کردیا

جنوبی کوریا نے 5 جی نیٹ ورک کا آغاز کردیا

- Advertisement -
- Advertisement -

سیول ۔ سائبر دنیا میں آئے دن تیز سے تیز ترین موصلاتی رابطوں کو یقینی بنانے میں ترقی یافتہ ممالک کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ تھری جی اور فور جی کے بعد اب فائی جی کے شعبے میں بھی اہم پیش رفت ہورہی ہے۔ جنوبی کوریا نے اس ضمن میں ایک اہم کامیابی حاصل کرلی ہے جیسا کہ اس نے دنیا کے سب سے بڑے 5 جی نیٹ ورک کا آغاز کر دیا ہے۔ اس ٹکنالوجی کے ذریعہ صارفین کو تیز ترین وائرلس ٹکنالوجی کی سہولیات میسر ہوں گی۔

جنوبی کوریا کی ٹیلی کام کی سہولتیں فراہم کرنے والی تین بڑی کمپنیاں، ایس کے ٹیلی کام، کے ٹی اور ایل جی یو پلس نے اپنی 5 جی خدمات کا آغاز کردیا ہے۔ اس سے پہلے کہا گیا تھا کہ تیز ترین وائرلس سروس کا بھی افتتاح اپریل کے پہلے ہفتے میںہوگا۔جنوبی کوریا ٹکنالوجی میں برتری کے لئے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے اور سیول 5 جی ٹکنالوجی کو اپنی معیشت کی ترقی کے لئے ضروری سمجھتا ہے۔اس سے پہلے امریکہ، چین اور جاپان بھی اس کوشش میں تھے کہ وہ 5 جی ٹکنالوجی کی خدمات فراہم کرنے والے دنیا کے پہلے ملک بن جائیں۔

امریکہ کی وائرلس سروسز فراہم کرنے والی ایک بڑی کمپنی ورائزن 5 جی ٹکنالوجی پر تیزی سے کام کر رہی ہے اور اولیت حاصل کرنے کی کوشش میں اس نے شکاگو میں 5 جی کی خدمات شروع کر دی ہیں، لیکن اس سے دو گھنٹے قبل جنوبی کوریا نے اپنی 5 جی خدمات متعارف کر دیں ہیں۔جنوبی کوریا کی سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنی ایس کے ٹیلی کامکے بموجب ابتدا میں 6 مشہور شخصیات کو 5 جی خدمات فراہم کی گئی ہیں جن میں پاپ بینڈ ایگزو کے دو ارکان اور اولمپک آئس سکیٹنگ کے مشہور کھلاڑی کم یو نا شامل ہیں۔

جنوبی کوریا کی، کے ٹی اور ایل جی یو پلس نے بھی 5 جی کی خدمات ایک ساتھ شروع کی ہیں۔عام صارفین کو ان خدمات کی فراہمی جمعہ سے شروع ہوگئی ہے۔ صارفین سام سنگ گلیسکسی ایس 10 کے ذریعہ 5 جی کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ یہ دنیا کا پہلا ایسا فون ہے جس میں 5 جی کے سگنلز وصول کرنے کی سہولت موجود ہے۔ماہرین نے کہا ہے کہ 5 جی کے ذریعے انٹرنیٹ کی رفتار 4 جی کے مقابلے میں 20 گنا زیادہ تیز ہو گی۔ اس ٹکنالوجی کے ذریعہ مستقبل میں خودکار ڈرائیونگ جیسی ڈیوائسز بنانے میں مدد ملے گی اور 2034 تک دنیا کی معیشت میں فائی جی خدمات کی مدد سے 565 بلین ڈالرس کا اضافہ ہونے کی توقع ہے۔