Tuesday, May 28, 2024
Homesliderدکنی زبان میں تعلیمی کامو ں کا  آغاز علاءالدین خلجی سے پہلے...

دکنی زبان میں تعلیمی کامو ں کا  آغاز علاءالدین خلجی سے پہلے شروع ہوچکا تھا

- Advertisement -
- Advertisement -

حیدرآباد۔ دکنی زبان میں تعلیمی کاموں کا آغاز علاءالدین خلجی کی فتوحات سے بہت پہلے شروع ہوچکا تھا۔ متعدد صوفیا کرام نے دکن کو اپنا مرکز بنایا اور انسانیت کی خدمات انجام دیتے رہے ، ان میں چند نام حاجی رومی، سید شاہ مومن اور بابا سیدمظہرعالم وغیرہ کے ملتے ہیں۔ابتداءمیں ان کے ذریعہ کیا جانے والا کام منظوم شکل میں تھا، پھرنثر میں کام ہونے لگا۔

ان خیالات کا اظہار پر وفیسر محمد نسیم الدین فریس ، ڈین اسکول برائے لسانیات وہندوستانیات نے شعبہ اسلامک اسٹڈیز مولانا آزادنیشنل اردو یونیورسٹی کی جانب سے  منعقدہ اپنے آن لائن توسیعی خطبہ دکنی اردو میں علمی سرمایہ میں کیا۔ انھوں نے موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید کہا کہ محمد بن تغلق کے دورحکومت میں پایہ تخت کی دہلی سے دیوگیری منتقلی کے تاریخ ساز فیصلے نے اس خطہ کی لسانیات پر بھی اثر ڈالااور دکنی اردو کو شمالی ہند سے آنے والے لوگوں کی زبان کھڑی بولی کے ساتھ مل کر مزید پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ انھوں نے مزید کہا کہ دکنی اردو میں علمی کام کا ایک بڑا حصہ اسلامی موضوعات سے متعلق ہے اور اس کا دوسرا حصہ دیگر موضوعات پر علمی سرمایہ فراہم کرتاہے ۔ تصوف، فقہ، حدیث، تفسیر اور سیرت جیسے موضوعات پر دکنی زبان میں پہلے منظوم اور پھر نثری کام انجام دئے گئے ۔ دیگر موضوعات میں طب یونانی، علمِ نجوم، شاعری و ادب اور تاریخ وسوانح جیسے موضوعات پربھی کام ہوئے جو مخطوطات کی شکل میں کتب خانہ سالارجنگ میوزیم، کتب خانہ آصفیہاورادارہ ادبیات اردو میں موجود ہیں۔

پروگرام کا آغاز ڈاکٹر عاطف عمران (استاذ شعبہ اسلامک اسٹڈیز) کی تلاوت و ترجمہ کے ساتھ ہوا۔ اسلامی مطالعات فورم شعبہ اسلامک اسٹڈیز کی کوآرڈینیٹر محترمہ ذیشان سارہ (اسسٹنٹ پروفیسر ، شعبہ اسلامک اسٹڈیز) نے اسلامی مطالعات فورم کا تعارف پیش کیا۔ ساتھ ہی توسیعی خطبہ کے موضوع اور مہمان خصوصی کا تعارف پیش کیا۔ پروگرام کے اختتام میں صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز پروفیسرمحمد فہیم اخترندوی نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ دکنی اردو میں ہونے والے اسلامی موضوعات کے ان نادرکاموں کو تحقیق کے ذریعہ سامنے لانے کی ذمہ داری اسلامک اسٹڈیز کے محققین کی ہے ضرورت ہے کہ ان کاموں کا تعارف تیار کیا جائے اور ان میں جو قیمتی کام ہیں انھیں شائع کیا جائے ۔