Friday, March 1, 2024
Homesliderذات پات کی بنیادپر تشدد کے بعد کشیدگی ، سیکوریٹی میں اضافہ

ذات پات کی بنیادپر تشدد کے بعد کشیدگی ، سیکوریٹی میں اضافہ

- Advertisement -
- Advertisement -

چینائی۔ جنوبی تمل ناڈو میں ترونیل ویلی گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ضلع میں ذات پات سے متعلق دو قتل کے واقعات کے بعد تناؤ کا شکار ہے۔دونوں صورتوں میں ایک ثالثی ذات کے افراد کو دوسرے سے تعلق رکھنے والے گروہ نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔پیرکی رات ضلع کے نادکلور گاؤں کے نمبیراجن کو سری کرشنا سوامی مندر کے تہوار پر حالیہ تنازعہ کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ ایک مختلف ذات سے تعلق رکھنے والے پانچ نوجوانوں نے نمبیراجن کو گلا دبا کرموت کے گھاٹ اتاردیا۔ منگل کو متوفی نمبراجن کے خاندان کے رشتہ داروں، دوستوں اور ذات کے افراد نے ہائی وے کو بندکردیا جس سے ٹریفک جام ہوگئی۔

دو ہفتے قبل اسی ذات سے تعلق رکھنے والے ایک شخص میانڈی کو اسی درمیانی ذات سے تعلق رکھنے والے ایک گروہ نے گلا گھونٹ کر ہلاک کردیا تھا جس نے نمبیراجن کو قتل کیا تھا۔  دو سال پہلے ایک اورشخص دورئی عرف چدمبرم جو سیولاپری گاؤں کا ہے، مندر کے مسئلے کی وجہ سے قتل کردیا گیا تھا۔ دورئی کا تعلق بھی میانڈی اورنمبیراجن کی ایک ہی ذات سے تھا اور مجرم بھی اسی درمیانی ذات سے تھے جنہوں نے باقی دو کو گلے کاٹ کرقتل کیا تھا۔مزید کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کے لیے جنوبی زون کے انسپکٹر جنرل آسرا گرگ کی قیادت میں ضلع ترونیل ویلی میں بھاری پولیس دستے کو تعینات کیا گیا ہے۔

پولیس کے ذرائع نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ اس ذات کے ارکان کی طرف سے انتقامی کارروائی کے امکانات ہیں جن کے ارکان کو گزشتہ دو سالوں میں بے دردی سے قتل کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ تیرونیل ویلی، مدورائی، ڈنڈیگل اور تھینی کے علاقوں میں گزشتہ کئی سالوں سے ذات پات کے تشدد دیکھنے میں آئے ہیں اور اگست 2021 میں پولیس کے ڈی جی سی سلیندربابو نے مدورائی میں چند دنوں کے لیے ڈیرے ڈالے تھے اور ایک فارمولہ بنایا تھا۔  دودن کے وقفے میں تین قتل کے بعد ذات پات سے متعلق قتل کی روک تھام کی حکمت عملی نے انتظامیہ کو دنگ کردیا۔ دو ہفتوں کے دوران یکے بعد دیگرے قتل کی وارداتوں سے علاقے کے لوگ پریشان ہیں۔