Friday, July 12, 2024
Homesliderسوشل میڈیا پر نفرت اور اشتعال انگیز مواد ،حیدرآباد پرپولیس کی کڑی...

سوشل میڈیا پر نفرت اور اشتعال انگیز مواد ،حیدرآباد پرپولیس کی کڑی نظر

- Advertisement -
- Advertisement -

حیدآباد۔ سوشل میڈیا پرچندافراد توہین آمیز مواد شائع  کرکے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی مقبولیت کو بڑھانے کے لئے نچلی سطح کی حرکتیں کررہے ہیں ۔پچھلے ایک مہینے میں سائبر کرائم پولیس کو خاص طور پر حیدرآباد میں متعدد فیس بک پیجز کے خلاف6 کے قریب شکایات موصول ہوئی ہیں جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ کچھ صارفین مختلف افراد کے خلاف بدنامی آمیز مواد شائع کررہے ہیں۔

پولیس نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے بعد سے ہمارے پاس مزید شکایات آرہی ہیں۔ لوگ سوشل میڈیا پر ہر طرح کے مواد کا سہارا لے رہے ہیں۔ حیدرآباد سائبر کرائم کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ ہمیں فیس بک کے جن صفحوں پر شبہ ہے ان میں سے کچھ صفحات سیاسی جماعتوں کے ہمدردوں کے ہیں۔جون کے وسط میں اے ایم آئی ایم پارٹی کے سوشل میڈیا رکن محمد عرفان نے کچھ افراد کے خلاف شکایت کی ہے  جو فیس بک پر کم سے کم چھ کمیونٹی پیجز کے اڈمین ہیں  اورمقامی رہنماؤں کے خلاف توہین آمیز پوسٹیں بنا رہے ہیں۔ اسی طرح کی شکایت گذشتہ ہفتے ایک پارٹی کے ایک اور سوشل میڈیا سیل ممبر توصیف نے فیس بک پیج کے خلاف بھی کی تھی۔

اسی طرح کی ایک اور شکایت حسینی  الم پولیس اسٹیشن میں کی گئی تھی جس میں اس شخص نے چارمینار کے ایم ایل اے ممتاز احمد خان کی تصویر کے ساتھ سوشل میڈیا پرتبصرہ کئے تھے ۔سائبر کرائم حیدرآباد کے اے سی پی کے وی ایم پرساد نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے بعد سے انہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعہ ٹرولنگ کی بہت سی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ہم مقدمات درج کر رہے ہیں اور تفتیش شروع کر رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی ہم سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو غیر فعال کرنے کے لئے کمپنیوں سے بھی رابطہ کررہے ہیں۔

در حقیقت ، پولیس نے ایک سماجی کارکن کو مبینہ طور پر ایک خاتون یوٹ ٹیوبر کے خلاف توہین آمیز تبصرے کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا کیونکہ اس خاتون  نے خودکشی کی کوشش کی تھی۔ پولیس نے متنبہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بدعنوانی اور اشتعال کا سہارا لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ پولیس عہدیداروں نے کہا ہے ایک خصوصی ٹیم سوشل میڈیا پلیٹ فارمزپر نگاہ رکھے ہوئے ہے اور وہ مقدمات بھی درج کررہی ہے۔