Monday, May 27, 2024
Homesliderشدید بارشوں میں ڈیلیوری بوائز کی مشکل زندگی، دووقت کی روٹی کےلئے...

شدید بارشوں میں ڈیلیوری بوائز کی مشکل زندگی، دووقت کی روٹی کےلئے محنت کرنے پرمجبور

- Advertisement -
- Advertisement -

حیدرآباد۔ حیدرآباد میں گزشتہ ایک ہفتہ سے شدید بارشوں کے دوران سب سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد میں وہ ڈیلیوری بوائز ہیں جو کھانے اور گروسری پہنچانے والی مختلف تنظیموں کے لیے کام کرتے ہیں۔ حیدرآباد کے شہری اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں کہ آیا ڈیلیوری بوائز کو شدید بارش کے دوران کام کرنا چاہیے یا بارش کے رکنے تک وقفہ لینا چاہیے۔

اس موضوع پر  چند افراد نے کہا ہے کہ انہیں کھانا پہنچانے کے لیے باہر جا کر اپنی جان کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے جب کہ دوسروں کا خیال ہے کہ یہ حالات  ان کے فائدے میں ہو سکتا ہے کیونکہ انھیں ایسے حالات میں اضافی معاوضہ ملتا ہے۔ کچھ اور لوگ بھی تھے جنہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ان لوگوں کو اضافی ٹپس دیں جو شدید بارش کے باوجود کھانا فراہم کرتے ہیں۔

اس ضمن میں سید انوار پاشا   جو اس وقت حیدرآباد کے ایک خانگی  بینک میں کام کرتے ہیں وہ  ان ایپس کے باقاعدہ صارف ہیں۔ اس مسئلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہاں، بارشوں میں کام کرنا مشکل  ہوتا ہے لیکن ان میں سے کچھ جو خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہیں، یہ پیسہ کمانے کا ایک سنہری موقع ہے۔ انہیں اضافی مراعات ملتی ہیں، جس سے ان کی آمدنی مددہوتی ہے۔ شائینی  جو فی الحال حیدرآباد کے شاداں کالج (نام تبدیل )  سے ماس کمیونیکیشن میں اپنی ڈگری حاصل کر رہی ہیں انہوں  نے کہا آج کی نسل بہت زیادہ  اوٹی ٹی دیکھنے والی نسل ہے۔او ٹی ٹی  پلیٹ فارم پر کچھ دیکھتے ہوئے، وہ یا تو سیوگی یا زوماٹو کھولتے ہیں اور کھانا آرڈر کرتے ہیں۔ ہمیں احساس نہیں ہوتا کہ وہ ایسا کر کے ڈیلیوری بوائز کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

 گروسری ڈیلیور کرنے والی ایپ کے لیے کام کرنے والے ڈیلیوری بوائے ذیشان  نے کہا ہم جیسے لوگوں کے لیے بارش سب سے برا وقت ہے۔ ایسے دن ہوتے ہیں جب ہم اپنا ہدف حاصل نہیں کر پاتے۔ اس کو پورا کرنے کے لیے ہمیں اس بات سے قطع نظر کام کرنا ہوگا کہ کتنی ہی تیز بارش کیوں نہ ہو۔ دوم مثال کے طور پر ہم بارش کے دوران کام کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، کئی بار ہم چھوٹی گلیوں میں پھنس جاتے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں اپنے فیصلے پر پچھتاوا ہوتا ہے۔ ایسا  بہت بار ہوتا ہے۔ ہمارے لیے کوئی دن آسان نہیں ہوتا۔

دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ایک حیدرآبادی مشتاق نے کہاکھانے کا آرڈر نہ دینے سے صرف انہیں تکلیف ہوگی کیونکہ ان کا گزر بسر اسے پر ہے اور آمدنی کا یہ ہی ذریعہ ہے ۔ اس کے بجائے، ہم معقول ٹپس دے کر ان کی مشکلات کی تلافی کر سکتے ہیں۔ اسی خطوط پر کالج کے ایک طالب علم آدرش نے کہا واضح رہے کہ ان ایپس میں زیادہ تر ادائیگیاں آن لائن کی جاتی ہیں۔ بہت کم ہی کوئی کیش آن ڈیلیوری کرتا ہے۔ ایک بار آن لائن ادائیگی کرنے کے بعد، ان میں سے بہت سے لوگ ایپ میں ڈیلیوری ایگزیکٹو کو ٹپس شامل کرنے کی زحمت بھی نہیں کرتے ہیں ، لہذا شدید بارشوں میں محنت کرنے والوں کے بارے میں کچھ کرنا ہوگا ۔