Tuesday, May 28, 2024
Homesliderعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نصاب سے دو اسلامی اسکالرز کے اسباق...

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نصاب سے دو اسلامی اسکالرز کے اسباق ہٹادینے  کا فیصلہ

- Advertisement -
- Advertisement -

علی گڑھ ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے دو اسلامی اسکالرز کی تعلیمات کو ان کے شعبہ اسلامیات کے نصاب سے یہ کہتے ہوئے خارج کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ یونیورسٹی کے عہدیداروں نے کہا کہ یہ فیصلہ کچھ شکایات موصول ہونے کے بعد لیا گیا ہے کہ مصنفین کی تعلیمات قابل اعتراض ہیں۔حکام نے بتایا کہ جن دو اسکالرز کی تعلیمات کو ہٹایا جائے گا وہ ہیں مصری مصنف اور اسلامی اسکالر سیدقطب اور پاکستانی مصنف ابوالاعلیٰ مودودی۔ ان دونوں اسکالرز کی تعلیمات کو ہٹانے کا اعلان علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ اور ہمدرد یونیورسٹی میں 25 ماہرین تعلیم کی طرف سے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک کھلا خط لکھنے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ان کے نوٹس میں جہادی اسلامی نصاب کا ذکر کیا گیا تھا۔ کھلے خط میں کہا گیا تھا کہ یہ گہری تشویش کی بات ہے کہ مودودی کی تحریریں تینوں یونیورسٹیوں کے نصاب کا حصہ ہیں۔

دو اسکالرز کی تعلیمات کو نصاب سے ہٹائے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے اے ایم یو کے پبلک ریلیشن آفیسر شافع قدوائی نے کہا دونوں اسکالرز کی تعلیمات کو نصاب سے ہٹا دیا جائے گا۔ اس کے لیے طریقہ کار پرعمل کیا جائے گا۔ یونیورسٹی میں کسی بھی تنازعہ سے بچنے کے لیے نصاب سے ابواب  ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ سالوں میں حالات بدلے ہیں۔ جو بات برسوں پہلے پڑھانے کے قابل سمجھی جاتی تھی وہ شاید اب پڑھانے کے لائق نہ سمجھی جائے۔

کچھ شکایتیں تھیں۔ میں نہیں جانتا کہ کس نے شکایت کی لیکن ہاں کچھ لوگوں نے ان تعلیمات کے ساتھ ایک مسئلہ اٹھایا اور محکمہ نے اسے ہٹانے کا فیصلہ کیا قدوائی نے مزید کہا۔25  ماہرین تعلیم کی طرف سے لکھے گئے کھلے خط کا عنوان تھا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جامعہ ہمدرد جیسے ریاستی مالی اعانت سے چلنے والے اداروں میں ایک مخالف ہند/مخالف ملک نصاب کے ذریعے طلباء کی حوصلہ افزائی۔ اس میں لکھا گیا تھا ۔ہم زیر دستخطی آپ کے نوٹس میں لانا چاہتے ہیں کہ ریاست کی مالی اعانت سے چلنے والی اسلامی یونیورسٹیوں جیسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور ہمدرد یونیورسٹی کے بعض شعبہ جات کی طرف سے ڈھٹائی سے جہادی اسلامی کورس کے نصاب کی پیروی کی جارہی ہے۔ دستخط کرنے والوں میں پروفیسر مدھو کشور، سینئر فیلو، نہرو میموریل میوزیم اینڈ لائبریری این ایم ایم ایل  بھی شامل ہے۔

ڈپارٹمنٹ کے ایک پروفیسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہمیں یونیورسٹی کے اعلیٰ حکام نے کہا کہ ان دونوں اسکالرزکو شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے نصاب سے نکال دیا جائے۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہ فیصلہ یونیورسٹی میں کسی تنازعہ سے بچنے کے لیے لیا گیا ہے۔ہمیں یونیورسٹی کے حکام نے یہ نہیں بتایا کہ جو کچھ پڑھایا جا رہا ہے اس کا کون سا حصہ قابل اعتراض یا ملک مخالف ہے۔ ہمیں صرف دومصنفین کی تعلیمات کو ہٹانے کے لئے کہا گیا تھا۔

یونیورسٹی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دونوں مصنفین کی تعلیمات اسلامیات کے شعبہ میں ماسٹرزکے لیے اختیاری پیپرز کے طور پر پڑھائی جا رہی تھیں۔  ان دونوں مصنفین کو کم از کم دو دہائیوں سے پڑھایا جا رہا تھا۔ اختیاری پرچوں میں شعبہ دونوں مصنفین اور نظریہ نگاروں کے افکار اور تعلیمات پڑھاتا تھا۔ ان کا تعلق مذہبی تعلیمات اور سیاسی افکار سے تھا۔ ان کے بارے میں پڑھائے جانے والے اختیاری مقالوں کا عنوان تھا مولانا مدودی اور ان کے افکار اورسید قطب اور ان کے افکار۔ اے ایم یو کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے ماسٹرز کے طلباء کے لیے یہ دو اختیاری پرچے تھے ۔