Tuesday, May 28, 2024
Homesliderفیض نے میر، غالب اور اقبال کی شعری روایتوں کی توسیع کی۔“...

فیض نے میر، غالب اور اقبال کی شعری روایتوں کی توسیع کی۔“ پروفیسر علی

 آن لائن ادبی فورم ”بازگشت“ کا دوسرا ادبی اجلاس 
فیض احمد فیض کی نظموں کی پیش کش اور تجزیہ
حیدرآباد: فیض احمد فیض ترقی پسند شاعروں کے کارواں میں سب سے آگے ہیں۔ انھوں نے میر تقی میر، مرزا غالب اور علامہ اقبال کی شعری روایتوں کی توسیع کی۔ ان کی شاعری یا ترقی پسند شاعری روایت سے بغاوت نہیں ہے بلکہ انھوں نے ماضی کی روایات کو عصری حالات کے آئینے میں پیش کیا۔انھوں نے قدیم علامتوں کو نئے معنی دیے۔فیض کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے نعرہ بازی کو بھی شعریت عطا کردی ہے۔ ان کی فکر میں تسلسل ملتا ہے۔ وہ اپنی شاعری میں آس پاس کے ماحول کو سمو لیتے ہیں۔وہ خود کو عوام اور محنت کش طبقے سے الگ کرکے نہیں دیکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری عوام کو اپیل کرتی ہے۔“ان خیالات کا اظہارمعروف ترقی پسند نقاد،قومی اردو کونسل کے سابق ڈائرکٹر اور دہلی یونیورسٹی کے سبک دوش استاد پروفیسر علی جاویدنے ”بازگشت“ آن لائن ادبی فورم کی جانب سے مشہور ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کی نظموں کی پیش کش اور تجزیے پر مبنی گوگل میٹ پر منعقدہ پروگرام میں بہ حیثیت صدر اجلاس کیا۔
اس موقعے پر ممتازتھیئٹر اور ٹی وی فنکار جناب جاوید نسیم نے فیض کی نظمیں ”مجھ سے پہلی سی محبت“، ”رقیب سے“، ”موضوع سخن“ اور ”تنہائی“دلکش انداز میں پیش کیں۔جلسے میں بزرگ نقاد، شاعر اور مترجم پروفیسر رحمت یوسف زئی سابق استاد حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی نے”موضوع سخن“ اور ”تنہائی“ اورنئی نسل کے ادیب، شاعر اور مترجم ڈاکٹر سید محمود کاظمی استاد شعبہئ ترجمہ، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآبادنے’مجھ سے پہلی سی محبت“اور ”رقیب سے“ نظموں کے بہترین تجزیے پیش کیے اور قابل غور نکات کی جانب اشارہ کیا۔پروفیسر محمدنسیم الدین فریس، صدر شعبہئ اردو، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد، ڈاکٹرسید امتیازالدین اور ڈاکٹر ریشماں پروین، لکھنئو نے نظموں سے متعلق مباحث میں حصہ لیا۔ ڈاکٹر فیروز عالم رکن انتظامیہ کمیٹی نے مہمانوں کا تعارف پیش کیا جبکہ دوسری رکن ڈاکٹر حمیرہ سعید نے نظامت کی کارروائی بہ طریق احسن چلائی۔مجلس منتظمہ کی تیسری رکن ڈاکٹر گلِ رعنا نے اظہار تشکر کیا۔اس اجلاس میں ملک و بیرونِ ملک کے شائقین ادب نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔