Thursday, May 30, 2024
Homesliderملالی مسجد تنازعہ : کرناٹک عدالت سروے کے مطالبے پر فیصلہ سنائے...

ملالی مسجد تنازعہ : کرناٹک عدالت سروے کے مطالبے پر فیصلہ سنائے گی

- Advertisement -
- Advertisement -

بنگلورو۔ کرناٹک کی ایک عدالت ملالی مسجد تنازعہ کے سلسلے میں اپنا فیصلہ سنائے گی۔کچھ ہندو تنظیموں نے ایک عرضی پیش کی تھی جس میں اتر پردیش کی گیانواپی مسجد کی طرز پر مسجد کا سروے کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد مسجد کی تزئین و آرائش کے وقت ہندو مندر کے ڈھانچے کو منظر عام پر لایا گیا ۔اس کو چیلنج کرتے ہوئے مسجد کی انتظامیہ اورمسلم تنظیموں نے دلیل دی تھی کہ عدالت کے پاس اس معاملے کو دیکھنے کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔ عدالت پیر کو اس سلسلے میں فیصلہ سنانے والی تھی۔

قبل ازیں کرناٹک کی ایک مقامی عدالت نے دکشینا کنڑ ضلع میں ملالی مسجد کے سلسلے میں 9 نومبر کے لیے حکم محفوظ رکھا تھا۔منگلورو میں تیسری ایڈیشنل سول کورٹ نے احکامات محفوظ کرنے کے بعد ہدایت دی کہ مسجد کے احاطے میں جمود کو برقرار رکھا جائے۔وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) جوعرضی گزاروں میں سے ایک ہے، نے ملالی مسجد میں سروے کرنے کے لیے کورٹ کمشنر کے تقرر کا مطالبہ کیا۔ملالی مسجد کی انتظامیہ نے کہا کہ وی ایچ پی کی عرضی کو مسترد کیا جانا چاہیے۔ اس نے یہ بھی برقرار رکھا کہ عدالت اس معاملے کو نہیں لے سکتی۔

عدالت نے دلائل اور جوابی دلائل ریکارڈ کئے۔ اس سے قبل فیصلہ 17 اکتوبرکو محفوظ کیا گیا تھا جسے 9 نومبر تک ملتوی کردیا گیا تھا۔ہندو تنظیمیں اور اقلیتی برادری فیصلے کے منتظر تھے۔ اگر عدالت ملالی مسجد انتظامیہ کی عرضی پرغورکرتی ہے تو وی ایچ پی کا مسجد کا سروے کروانے کا مطالبہ مسترد ہوجائے گا اور اگر عدالت وی ایچ پی کی عرضی پر غورکرتی ہے تو مساجد کا سروے ہوگا۔چونکہ کوئی بھی فیصلہ امن و امان کی صورتحال کو متاثر کرے گا، حکام فکر مند ہیں اور امن اور ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے حفاظتی حصار کی تیاری کررہے ہیں۔