Friday, July 19, 2024
Homesliderمنوگوڑ کی شکست ،  بی جے پی کے تلنگانہ منصوبوں کوشدیددھکا

منوگوڑ کی شکست ،  بی جے پی کے تلنگانہ منصوبوں کوشدیددھکا

- Advertisement -
- Advertisement -

حیدرآباد۔ منوگوڑ میں حضور آباد کی کامیابی کو دہرانے میں بی جے پی کی ناکامی نے تلنگانہ راشٹرا سمیتی (ٹی آر ایس) کے واحد قابل عمل متبادل کے طور پر ابھرنے اور اگلے سال کی اسمبلی سے قبل نفسیاتی برتری حاصل کرنے کی اس کی کوششوں کو دھچا لگا ہے۔یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ منوگوڑ میں ضمنی انتخاب مسلط کرنا بی جے پی کی جانب سے حلقہ میں کوماتیریڈی راج گوپال ریڈی کی مقبولیت پر سوار ہو کر ضمنی انتخابات میں جیت کی ہیٹ ٹرک کرنے اور یہ پیغام دینے کا ایک حسابی اقدام تھا کہ وہ اکیلے ہی کے سی آر کی قیادت کو شکست دے سکتی ہے۔

بی جے پی کے ذریعہ اس ضمنی انتخاب کو جو اہمیت دی گئی ہے اس کا اندازہ اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے راج گوپال ریڈی کا بی جے پی میں خیرمقدم کرنے کے لئے ذاتی طور پر منوگوڑ کا دورہ کیا تھا اور لوگوں سے انہیں منتخب کرنے کی اپیل کی تھی۔ شاہ نے یہ بھی پیش گوئی کی تھی کہ راج گوپال کی جیت کے ایک ماہ کے اندر ریاست میں ٹی آر ایس حکومت گر جائے گی۔بی جے پی پراعتماد تھی کیونکہ گزشتہ سال حضور آباد میں بھی اسی طرح کی حکمت عملی کا نتیجہ نکلا تھا۔ ایٹالہ راجندر جو ریاستی کابینہ سے ہٹائے جانے کے بعد بی جے پی میں چلے گئے تھے۔گزشتہ سال ہونے والے انتخابات میں بی جے پی امیدوار کے طور پر اس سیٹ پر جیت گئے ۔ یہ راجندر کی ذاتی جیت تھی جو 2009 سے اس سیٹ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

حلقہ میں عوامی حمایت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے راجندر نے سیٹ برقرار رکھی تاہم بی جے پی نے اس جیت کا استعمال خود کو ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر پیش کرنے کے لیے کیا جو ٹی آر ایس کو چیلنج کر سکتی ہے۔حضور آباد کی جیت ایک سال کے بعد ہوئی جب بی جے پی نے دبک میں پہلے ضمنی انتخابات میں ٹی آر ایس سے سیٹ چھیننے کے لیے ایک کم فرق سے کامیابی حاصل کی۔ اس جیت کے بعداگرچہ بہت سے لوگوں نے اس کو ابتدائی کامیابی تصورکیا ، بی جے پی کو ایک اہم طاقت کے طور پر ابھرنے کا ایک حقیقت پسندانہ موقع نظر آنے لگا۔

اس کے بعد گریٹر حیدرآباد میونسپل الیکشن (جی ایچ ایم اسی ) میں بی جے پی کی شاندار کارکردگی تھی۔ پارٹی جس نے اپنے اعلیٰ مرکزی قائدین بشمول امیت شاہ اور پارٹی صدر جے پی نڈا کو شامل کیا، ایک جارحانہ مہم چلاتے ہوئے، 150 رکنی میونسپل باڈی میں اس کی تعداد گزشتہ انتخابات میں صرف چار سے بڑھ کر 48 ہوگئی۔دبک اور حضور آباد اسمبلی ضمنی انتخابات میں کامیابیوں اور جی ایچ ایم سی انتخابات میں اچھی کارکردگی نے بھگوا پارٹی کے حوصلے کو مزید بلند کیا۔ اس نے مشن 2023 کے ساتھ ریاست پر توجہ مرکوز کی تاکہ تلنگانہ میں برسراقتدار آئے اور کرناٹک کے بعد اسے پارٹی کے لیے جنوبی ہند کا دوسرا گیٹ وے بنایا جائے۔

اس حکمت عملی کے تحت بی جے پی نے اس سال جون میں حیدرآباد میں نیشنل ایگزیکٹیو کا انعقاد کیا۔ قومی ایگزیکٹیو سے پہلے اور بعد میں وزیر اعظم نریندر مودی، امیت شاہ اور جے پی نڈا سمیت سرکردہ قائدین کے دورہ تلنگانہ نے بی جے پی کے کارکنوں کے حوصلے بلند کئے۔کے سی آر نے نریندر مودی اور بی جے پی پر اپنے حملوں کو تیز اور قومی سیاست میں داخل ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے بی جے پی کو قومی سطح پر چیلنج کیا ۔راجگوپال ریڈی کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کے لیے آمادہ کرنا اور منوگوڑ میں ضمنی انتخاب کا انعقاد اسی حکمت عملی کا ایک حصہ سمجھا جاتا ہے۔

ٹی آر ایس نے حضور آباد کی تکرار کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور اس طرح زعفرانی عروج پر بریک لگا دی۔ کے سی آر کی پارٹی نے  بی جے کے منصوبوں کو بے نقاب کیا ۔ٹی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ نے دعویٰ کیا کہ راج گوپال ریڈی نے امیت شاہ کو یقین دلایا کہ وہ ضمنی انتخاب جیتنے کے لیے 500 کروڑ روپے خرچ کریں گے۔26 اکٹوبر کو حیدرآباد میں بی جے پی کے تین مبینہ ایجنٹوں کی گرفتاری جب کہ ٹی آر ایس کے چار ایم ایل ایز کو خریدنے کی کوشش ، انتخابی مہم کے دوران بھگوا پارٹی کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

اگرچہ بی جے پی قائدین نے ایم ایل ایز کے  معاملے کو منوگوڑ میں شکست کے خوف سے کے سی آر کا رچایا ہوا ڈرامہ قرار دیا، لیکن بھگوا پارٹی دفاعی انداز میں چلی گئی ہے۔کے سی آر کا دعویٰ ہے کہ اس نے نہ صرف بی جے پی کی ان کی حکومت کو گرانے کی سازش کو ناکام بنایا ہے بلکہ دہلی، آندھرا پردیش اور راجستھان میں حکومتوں کو گرانے کے اس کے منصوبوں کے ثبوت بھی اکٹھے کیے ہیں۔کے سی آر نے بی جے پی کے ایجنٹوں کے ذریعہ کئے گئے دھماکہ خیز داخلوں کی مکمل تحقیقات کے لئے دباؤ ڈالنے اور چیف جسٹس آف انڈیا، سپریم کورٹ کے دیگر ججوں اور تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹسوں سے جمہوریت کو بچانے کی اپیل کرکے اس مسئلے کو قومی سطح پر لے جانے کا عزم کیا جس سے  بی جے پی کو مستقبل قریب میں مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔