Saturday, June 22, 2024
Homeٹرینڈنگمودی حکومت ہندوستان کے مستقبل سے کھیل رہی ہے

مودی حکومت ہندوستان کے مستقبل سے کھیل رہی ہے

- Advertisement -
- Advertisement -

حیدرآباد ۔ حکومت کے طریقہ کار اور مودی کی مطلق العنانیت کے خلاف بولنا یہ اس طرف ارباب مجاز کی توجہ دلوانا نئے ہندوستان میں اب ایک جرم بن چکا ہے ۔ حکومت کے خلاف آواز بلند کرنے پر اپوزیشن لیڈروں کے خلاف کارروائی تو سیاسی تناظر میں سمجھ میں آتی ہے لیکن یونی ورسٹیوں میں تعیلم حاصل کرنے والے طلبہ کے خلاف کارروائی سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ طلبہ کو ملک کا مستقبل مانا جاتا ہے لیکن مودی حکومت ہندوستان کے مستقبل سے کھیل رہی ہے۔ ریاست مہاراشٹر کے شہر وردھا کی شناخت مہاتماگاندھی سے ہے۔ یہاں مہاتماگاندھی ہندی یونیورسٹی بھی ہے جس کی شناخت بابائے ہند کی تعلیم اور ان کے نظریات سے ہے۔ عدم تشدد، انصاف اور رواداری گاندھی کے نظریات کی بنیادیں ہیں لیکن بدقسمتی سے مہاتماگاندھی کے نام سے منسوب اس یونیورسٹی میں یہ عنصر نظر نہیں آتے ۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو مودی کو اجتماعی خط لکھنے کی پاداش میں دلت طبقے کے 6 طلبہ کا یونیورسٹی سے اخراج عمل میں نہیں آتا ۔

ان طلبہ کا قصور صرف اتنا تھا کہ انہوں نے ہجومی تشدد، عصمت ریزی، قومی اداروں کے خانگیانہ اور عوامی بنیادی سہولیات سے چشم پوشی وغیرہ جیسے معاملات پر خود کو پردھان سیوک کہلانے والے مودی کو خط لکھ کر ان کی توجہ مبذول کرانے کی جرآت کی تھی۔ معلوم نہیں موصوف تک ان طلبہ کا خط پہنچا یا نہیں، لیکن یونیورسٹی کے انتظامیہ تک ضرور پہنچ گیا جس نے ریاست میں نافذ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا یونیورسٹی سے اخراج کردیا۔ یونیورسٹی سے خارج کئے گئے یہ تمام طلبہ دلت طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، جنہوں نے7 اکتوبر کو مودی کو اجتماعی طور پر خط لکھ کر ان کی توجہ ملک میں رونما ہورہے منفی واقعات کی جانب مبذول کرانے کی کوشش تھی۔ لیکن معلوم یہ ہوا کہ مودی کی توجہ ان امور کی جانب تو مبذول نہیں ہوئی لیکن یونیورسٹی کی انتظامیہ کی توجہ ان کی جانب دو دن بعد ہی مبذول ہوگئی اور ان کا اخراج عمل میں آگیا۔

 یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ مودی کوصرف انہیں 6 طلبہ نے خط نہیں لکھا تھا، بلکہ یونیورسٹی کے بیشتر حساس طلبہ نے لکھا تھا، جن میں تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ شامل تھے، لیکن چونکہ یہ خط دلت لیڈر کانشی رام کی یومِ پیدائش کے موقع پر یونیورسٹی میں ہی منعقدہ ایک تقریب کے دوران لکھا گیا تھا، اس لئے انتظامیہ کا غصہ ان 6 دلت طلبہ پر نکلا۔ اب ظاہر ہے کہ طلبہ کا یہ اخراج ایک غیر قانونی وغیراخلاقی عمل تھا، اس لئے اس پر احتجاج کی آواز بلند ہونی شروع ہوگئی۔ چونکہ طلبہ کے اس اخراج کو انتخابی ضابطہ اخلاقی کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا، اس لئے اس معاملے میں مہاراشٹر کانگریس کے ایک وفد نے مہاراشٹر کے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کر کے یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مودی کو خط لکھنے پر کارروائی کا سامنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل لکھنے والے 49 دانشوروں، مفکروں اور فلمی دنیا کی کچھ سرکردہ شخصیات کے خلاف بہار کے مظفرپور کی ایک عدالت نے ملک سے غداری کا مقدمہ درج کرنے اوراس کی تفتیش کرنے کا پولس کو حکم دیا تھا۔ مقدمہ درج بھی ہوا اور پولس نے تفتیش بھی کی لیکن تفتیش کے بعد جو نتیجہ سامنے آیا، اس نے اس پورے غبارے کی ہوا نکال دی جس کی بنیاد پر یہ پورا بکھیڑا کھڑا کیا گیا تھا۔ مذکورہ 49 دانشوران کے خلاف ملک سے غداری کے مقدمے کی جو تفتیش سامنے آئی وہ یہ تھی عدالت میں اس معاملے کی اپیل دائر کرنے والے وکیل سدھیر کمار اوجھا کی یہ پرانی عادت ہے کہ وہ سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے ملک میں وقوع پذیر مشہور معاملات پر پی آئی ایل داخل کرتے رہتے ہیں۔ مظفر پور کے سینئر ایس پی منوج کشواہا کے مطابق اوجھا 745 مرتبہ اس طرح کی پی آئی ایل داخل کرچکے ہیں۔ مودی کو خط لکھنے والوں کے خلاف اوجھا کی پی آئی ایل کی بنیاد پر جو مقدمہ درج ہوا، اس معاملے میں وہ پولس کو ضروری ثبوت تک نہیں دے سکے۔ جس کی بنیاد پر پولس نے مقدمہ کو خارج کرتے ہوئے اب اوجھا کے ہی خلاف عدالت سے کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بالکل ایسا ہی کچھ معاملہ وردھا کی مہاتماگاندھی یونیورسٹی کا بھی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے ریاستی ومرکزی حکومت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ان طلبہ کو یونیورسٹی سے نکال تو دیا، لیکن اب ان کے چاپلوسی کا یہ عمل خود ان پر ہی بھاری پڑتا نظر آنے لگا ہے۔ جن طلبہ کا اخراج عمل میں آیا ہے، ظاہر ہے کہ وہ اس معاملے میں قانونی امکانات تلاش کریں گے۔ ایسی صورت میں کیا یہ ممکن ہوسکے گا کہ یونیورسٹی انتظامیہ اسے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ثابت کرسکے؟ ایسی صورت میں جبکہ ان طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کو پہلے ہی اس کے متعلق مطلع کردیا تھا؟۔ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا معاملہ اس صورت میں نافذالعمل ہوتا ہے جب کوئی تقریب یا اجتماع کا انعقاد بلا اجازت ہو۔

اگر کانشی رام کی یومِ پیدائش کا انعقاد انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے تو پھر ناگپور میں ہونے والے آر ایس ایس کے دسہرہ کے اجتماع کو اس سے علیحدہ کیوں رکھا جاسکتا ہے اور ریاست بھر میں ہونے والی دیگر تقریبات کو آخر کس زمرے میں رکھا جائے گا؟۔ حقیقت یہ ہے کہ کانشی رام کی تقریب کا انعقاد ایک بہانہ ہے۔ جن طلبہ کا اخراج کیا گیا ہے انہیں مودی کو خط لکھنے کی پاداش میں سزا دی گئی ہے جو مودی حکومت اور مودی بھکتوں کا نہایت آزمودہ حربہ ہے کہ عوام کو اس قدر خوفزدہ کردیا جائے ۔