Saturday, June 22, 2024
Homesliderناگر جنا ساگر نشت پر کامیابی کےلئے کانگریس اور ٹی آر ایس...

ناگر جنا ساگر نشت پر کامیابی کےلئے کانگریس اور ٹی آر ایس پرعزم

- Advertisement -
- Advertisement -

حیدرآباد ۔ تلنگانہ میں  ایک مرتبہ پھر سیاسی ہلچل بڑھ رہی ہے اور مرتبہ یہ ہلچل ناگرجنا اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب کےلئے ہیں جیساکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب کی تفصیلات  جاری کرنے کے ساتھ ہی تمام سیاسی جماعتوں نے اپنی منصوبہ بندی اور  حکمت عملی کو عملی جامہ پہنانا شروع کردیا ہے  ۔

 کانگریس نے پہلی مرتبہ سابق قائد مقننہ کے جانا ریڈی کو امیدوار بنانے کا اعلان کردیا ۔یہاں اس بات کا تذکرہ بھی اہم ہے کہ جانا ریڈی بہت پہلے سے اپنی انتخابی سرگرمیوں کا آغاز کرچکے ہیں ۔ دو دن قبل  تک ایم ایل سی انتخابات میں مصروف رہنے والی حکمران جماعت  ٹی آر ایس اپنی ساری توجہ ناگرجنا ساگر کے انتخاب پر مرکوز کرچکی ہے اور امید ہے کہ انتخابی اعلامیہ کے اعلان کے بعد ٹی آر ایس اپنے امیدوار کا اعلان کرے گی ۔ تلگو دیشم نے بھی مقامی قائد ایم ارون کمار کو امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ایم آر پی ایس کے بانی صدر ایم کرشنا مادیگا نے بھی ناگرجنا ساگر سے قسمت آزمانے کا اعلان کیا ہے ۔ ٹی آر ایس پارٹی آنجہانی رکن اسمبلی کے فرزند بھگت یادو ، ایم سی کوٹی ریڈی ، گرویا یادو ، ایم رنجیت یادو ، ٹی چنپا ریڈی اور تلنگانہ قانون ساز کونسل کے صدر نشین جی سکھیندر ریڈی کے ناموں پر غور کررہی ہے ۔

 دوباک ضمنی انتخابات اور جی ایچ ایم سی انتخابات میں شکست کے بعد ٹی آر ایس قیادت امیدوار کے معاملے میں سنجیدگی سے غور کررہی ہے کیونکہ کانگریس کے امیدوار کے جانا ریڈی طاقتور قائد ہے  اور کانگریس اپنی کامیابی  کےلئے پرعزم بھی ہے  دوسری جانب  چیف منسٹر کے سی آر کسی بھی حال میں ناگرجنا کی نشست  پر کامیابی کے خواہاں ہیں ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر  نے گریجویٹ حلقہ کی انتخابی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے طلب کردہ اجلاس میں اپنے قائدین کو مطلع کیا تھا کہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ ناگرجنا ساگر کے ضمنی انتخاب میں ٹی آر ایس کو 48 فیصد ووٹ حاصل ہوں گے جب کہ کانگریس 35 تا 38 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے گی ۔ جب کہ بی جے پی 7 تا 8 فیصد ووٹوں کے ساتھ تیسرے مقام پر رہے گی ۔ اس لیے امیدوار کے انتخاب کے معاملے میں کافی غور وغوض سے  فیصلہ کیا جارہا ہے ۔