Monday, May 27, 2024
Homesliderپاکستان نے نیوزی لینڈ کو 7 وکٹوں سے شکست دے کر فائنل...

پاکستان نے نیوزی لینڈ کو 7 وکٹوں سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنالی

- Advertisement -
- Advertisement -

سڈنی۔ پاکستان نے جامع  کارکردگی پیش کرتے ہوئے چہارشنبہ کو یہاں سڈنی کرکٹ گراؤنڈ (ایس سی جی) میں پہلے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کو سات وکٹوں سے شکست دے کر آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2022 کے فائنل میں رسائی حاصل کر لی۔ اس جیت کے ساتھ پاکستان اب 13 نومبر کو میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں ہونے والے خطابی تصادم کے لیےہندوستان  اور انگلینڈ کے درمیان دوسرے سیمی فائنل کے فاتح کا انتظار کر رہا ہے۔

ڈیرل مچل کی جوابی کارروائی والی نصف سنچری کے ساتھ کین ولیمسن کی ایک اہم اننگز نے نیوزی لینڈ کو ابتدائی جھٹکوں سے سنبھلنے میں مدد دی اور ٹاس جیت کر پہلے ببیٹنگ کرنے کا فیصلہ کرنے کے بعد 20 اوورز میں 152-4 رنز بنائے ۔ مچل (35 گیندوں پر 53 ناٹ آؤٹ) اور کین ولیمسن (42  گیندوں پر 46رنز ) کے علاوہ ڈیون کونوے (20 گیندوں پر 21 رنز) اور جیمز نیشم (12 گیندوں پر 16 رنز) نیوزی لینڈ کی جانب سے  دیگر اہم شراکت دار تھے۔

کسی قدر آسان  ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے اوپنرز محمد رضوان اور بابر اعظم نے اپنے ہاتھ کھولے  جب یہ سب سے زیادہ اہمیت رکھتا تھا اور پاکستان کو پہلے چھ اوورز میں 55/0 کا اسکور کرتے ہوئے ایک شاندار آغاز فراہم کیا اور ٹیم کا ٹورنمنٹ  میں بہترین پاور  رہا ۔کپتان بابر کا ڈیون کونوے نے کیچ چھوڑا جس کا نیوزی لینڈ کوخمیازہ بھگتنا پڑا۔ اس کے بعد بابر نے محمد رضوان کے ساتھ مل کر اننگز کے ابتدائی حصوں میں ٹرینٹ بولٹ اور ٹم ساؤتھی کے اوورز کو نشانہ بنایا ۔

رضوان نے اپنے جارحانہ انداز دکھایا اور باؤنڈریز لگاتے رہے جبکہ بابر نے نیوزی لینڈ کے بولرز کا مقابلہ کرنے سے پہلے اپنا وقت لیا ۔ پاور پلے کے بعد بھی پاکستان کی مرضی سے باؤنڈریز چل رہی تھیں اور وہ 10 اوورز کے بعد اسکور 87/0 تک پہنچ گیا۔اس کے بعد، بابر (42 گیندوں پر 53رنز) نے رفتار کو بڑھایا اور اپنے اوپننگ پارٹنر کو پچاس تک پہنچا دیا لیکن اس کے بعد وہ اپنی اننگز کو زیادہ دیر تک نہ لے سکے کیونکہ بولٹ اٹیک پر واپس آئے اور بابر کی وکٹ کے ساتھ 105 رنز کا سنچری اوپننگ رفاقت  توڑ دیا۔

بعد میں رضوان (43  گیندوں پر 57رنز) بھی 36 گیندوں پر نصف سنچری  تک پہنچے لیکن بابر کی طرح وہ بھی آخر تک روک  نہ سکے، 17 اوور میں بولٹ کے ہاتھوں آؤٹ ہوگئے۔ نوجوان محمد حارث نے دوسرے آخری اوور میں آؤٹ ہونے سے پہلے پاکستان کو فتح کے قریب پہنچانے کے لیے 26 گیندوں میں 30 رنز کی اہم اننگز کھیلی۔آخر کار شان مسعود (3 ناٹ آؤٹ) نے جیت کے رنز بنائے جب پاکستان نے 19.1 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر مطلوبہ نشانہ حاصل کرلیا ۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے ٹرینٹ بولٹ (2/33) اور مچل سینٹنر (1/26) نے وکٹیں حاصل کیں۔اس سے قبل نیوزی لینڈ نے پہلے ہی اوور میں فن ایلن (4) کی وکٹ گنوا دی۔ ایلن نے اوور کی پہلی گیند پر شاہین آفریدی کو چوکا مارا لیکن بائیں ہاتھ کے شاہین  نے انہیں تیسری گیند پر وکٹ کے سامنے ایل بی ڈبلیو  کرتے ہوئے پاکستان کو ابتدائی کامیابی دلوائی ۔

کونوے (20 گیندوں پر 21رنز) اور کین ولیمسن کے درمیان ساتھ زیادہ جارحانہ تھا اور وہ درمیان میں کافی وقت گزارنے کے بعد پاکستانی بولروں  کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نظر آئے۔مچل اور ولیمسن دونوں نے اپنا وقت لینے کے بعد 10 اوورز کے اختتام پر اسکورنگ کی شرح نیوزی لینڈ کے لیے اچھی نہیں لگ رہی تھی، لیکن وہ ڈرنکس کے وقفے کے دوران دوبارہ منظم ہو گئے اور اگلی 13 گیندوں پر 28 رنز بنا ئے ۔ ولیمسن اور مچل نے چوتھی وکٹ کے لیے 68 رنز کی اہم شراکت داری کی آفریدی کی طرف سے سست ڈلیوری تھی اور ولیمسن اسکوپ کرنے کے لیے ادھر ادھر ہو گئے لیکن وہ اس عمل کے دوران بولڈ ہو گئے۔

اس کے بعد مچل نے اپنی رفتار  کا سلسلہ جاری رکھا اور اپنی نصف  سنچری  تک پہنچ گئے۔ انہوں نے نیشام کے ساتھ مل کر آخری چند اوورز کے دوران بڑے شاٹس لگانے کی بھرپور کوشش کی لیکن پاکستانی بولروں نے کافی نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کو 20 اوورز میں 152-4 رنز تک محدود رکھا ۔پاکستان کے لیے شاہین آفریدی 2/24 کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے، اور محمد نواز (1/12) دوسرے وکٹ لینے والے کھلاڑی تھے۔