Tuesday, May 28, 2024
Homeٹرینڈنگچکن اور انڈے کورونا وائرس سے لڑنے میں طاقت ور غذا :...

چکن اور انڈے کورونا وائرس سے لڑنے میں طاقت ور غذا : سائنسدان

- Advertisement -
- Advertisement -

حیدرآباد۔ سائنسدانوں نے کہا ہے کہ پولٹری صنعت کا کورونا وائرس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور چکن اور انڈے نہ صرف محفوظ اورتغذیہ بخش ہیں بلکہ ان میں موجود اعلی معیارکا پروٹین بیماری کے خلاف مزاحمت کو مضبوط بناتا ہے ۔پولٹری تحقیق کے ڈائریکٹوریٹ اورحیدرآباد کے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ کورونا وائرس جسم میں بیماری کے خلاف مزاحمت کم ہونے پر لوگوں کو متاثرکرسکتا ہے ۔ ایسے میں گوشت خور لوگوں کو بیماری کے خلاف مزاحمت بڑھانے کے لئے غذا میں پروٹین کا اضافہ کرنا چاہئے ۔ انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ کم مصالحے اور تیل میں اچھی طرح پکے چکن یا انڈے کو باقاعدگی سے غذا میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔

انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ سائنس داں ایم آر ریڈی اور چندن پاسوان نے کہا کہ چکن اور انڈے میں ہائی کوالٹی¸ پروٹین پایا جاتا ہے جس سے جسم میں انٹی باڈی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ اس سے لوگوں میں قدرتی طور پر بیماری سے لڑنے کی طاقت پیدا ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں میں اگرکورونا وائرس کی علامات پائی بھی جاتی ہیں تو جسم میں موجود بیماری کے خلاف مزاحمت کی وجہ سے اس کی حالت میں تیزی سے بہتری آتی ہے ۔

ڈاکٹر ریڈی اور ڈاکٹر پاسوان نے کہا کہ پولٹری فارم میں پرندوںکو اعلی معیارکی متوازن غذا دی جاتی ہے جن میں وٹامن، معدنیات اوردیگر غذائی اجزاءشامل ہوتے ہیں۔ اس سے ان کی تیزی سے نشوونما ہوتی ہے اور وہ کافی مقدار میں انڈے دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ذرائع سے غلط فہمیاں پھیل گئی ہیں کہ چکن اور انڈے کورونا وائرس کی وجہ غیر محفوظ ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے کورونا وائرس کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے ۔کورونا انسان سے انسان میں پھیلتا ہے ، اس سے پرندوں کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔

انہوں نے یہاں تک کہا کہ پولٹری فارم میں کام کرنے والے کسی شخص میں کورونا وائرس کی علامات پائی بھی جاتی ہیں تو اس کا اس پرکوئی اثر نہیں پڑے گا۔اس دوران مویشی پروری، ڈیری اور ماہی گیری کے وزیر گری راج سنگھ اور وزیر مملکت سنجیوکمار بلیان نے بھی کہا ہے غلط فہمیاں پھیلنے کی وجہ پولٹری صنعت کو زبردست نقصان ہوا ہے اور اس کی قیمتیں پہلے کے مقابلے میں ایک تہائی سے بھی کم ہو گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چکن اور انڈے لوگوں کے لئے پوری طرح محفوظ ہیں اور ان کا کورونا وائرس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ مرکزی حکومت اس سلسلے میں ریاستوں کے رابطے میں ہے اور انہیں مناسب مشورہ دیاجارہا ہے ۔

پولٹری فیڈریشن آف انڈیا نے مویشی پروری اور مالیات کے وزیر مملکت انوراگ ٹھاکر کو ارسال کردہ مکتوب میں کہا ہے کہ چکن اور انڈے کی قیمت میں کمی آنے سے صرف فروری میں ہی پولٹری کی صنعت کو3600 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے ۔ فیڈریشن کے صدر رمیش چندرکھتری اورسکریٹری رن پال سنگھ نے کہا کہ فارم گیٹ پر چکن 10 سے15 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے جبکہ ایک کلو چکن تیار کرنے میں 80 روپے کا خرچ آتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک انڈے پر چارروپے لاگت آتی ہے جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ قیمت ڈھائی روپے ہی ملتی ہے ۔

 فروری میں چکن سے 3000 کروڑ اور انڈوں 600 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے ۔ ملک میں یومیہ تقریباً25 کروڑ انڈے20 ہزار ٹن چکن تیارہوتا ہے ۔ اس دوران پولٹری صنعت سے وابستہ ذرائع نے کہا ہے کہ ملک میں چار پانچ بڑی کمپنیاں باہمی مسابقت میںگزشتہ ایک سال سے ضرورت سے زیادہ چکن کی پیداوارکررہی ہیں جس سے اس کی قیمت پر اثر پڑرہا ہے اورچھوٹے کسانوںکو اقتصادی طور پر نقصان ہو رہا ہے ۔