Friday, March 1, 2024
Homeٹرینڈنگگجرات میں 58 سال بعد کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس

گجرات میں 58 سال بعد کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس

- Advertisement -
- Advertisement -

ہندوستان میں 17 ویں عام انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کے ساتھ ہی تمام پارٹیوں نے اپنی اپنی انتخابی حکمت عملی تیز کرلی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امیت شاہ بی جے پی کا اقتدار برقرار رکھنے کے لئے تمام ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں جس میں پلوامہ دہشت گرد حملے اور پھر پاکستان پر ہندوستانی فضائےہ کے حملے کو کیش کرنے نچلی درجہ کی سیاست بھی شامل ہے ۔ مودی اور امیت شاہ جوڑی کی کوششوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ملک میں ان کو اچھی حکومت نہیں بلکہ کسی بھی طرح اپنی حکومت چاہئے کیونکہ خود ان کی پارٹی کے جتنے قدآور رہنما ہیں وہ ان کے ساتھ اس کوشش میں کسی جوش کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں۔ ایسے حالات اور ماحول میں کانگریس نے ان دونوں کے گھر میں جاکر کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس کرتے ہوئے بی جے پی کو ایک بڑا چیلنچ دیا ہے۔سال 1961 کے بعد اب سال 2019 میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اہم اجلاس گجرا ت میں ہوا ہے۔ کانگریس جس کی آزادی کے بعد لوک سبھا میں پچھلی مرتبہ سب سے مایوس کن مظاہرہے تھے اس نے اس اہم اجلاس کے لئے گجرات کا انتخاب کرکے اپنی مخالف حکمراں جماعت کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ وہ کسی بھی حالت میں پیچھے ہٹنے والی نہیں بلکہ برسراقتدار بی جے پی کو کرسی سے بے دخل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی اور اپنے سیاسی مخالفین کو ہر محاذ پر شکست دیں گے۔ گجرات میں 58 سال بعد کانگریس ورکنگ کمیٹی اجلاس کے انعقاد سے کانگریس کے تیوروں کا صاف پتہ لگ جاتا ہے۔ حکمراں جماعت بی جے پی کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ ان کے لئے یہ انتخابات آسان نہیں ہیں، کیونکہ ان کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ سال 2004 میں اٹل بہاری واجپائی حکومت کے حالات موجودہ حکومت سے کافی اچھے تھے، ان سے سوال بھی کم کیے جا رہے تھے اور پورے ملک میں انڈیا شائننگ کا ڈنکا بج رہا تھا، لیکن ان حالات میں بھی عوام نے اپنی رائے اٹل بہاری واجپائی کے خلاف دی تھی۔ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کو یہ بھی اندازہ ہے کہ نریندر مودی کی مقبولیت آج بھی اٹل بہاری واجپائی کے برابر نہیں ہے۔ ساتھ ہی سال 2004 میں کانگریس کے تیور ایسے جارہانہ نہیں تھے جیسے آج ہیں۔ اس وقت جہاں بی جے پی کو کئی چبھتے سوالوں کے جواب دینے ہیں، وہیں تین ریاستوں میں حکومت بنانے کے بعد کانگریس کے اعتماد میں کافی اضافہ ہے۔ ان حالات کی روشنی میں تو نہیں لگتا کہ نریندر مودی کی اقتدار میں واپسی ہو سکتی ہے۔